14 اکتوبر 2026 - 11:38
قطر نے غزہ میں قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے غزہ کی پٹی میں ہونے والے واقعات کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے اور تنازعات کے پُرامن حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے قطر کی مجلس شوریٰ کے 55ویں اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قطر اور خطے کے دیگر ممالک غیر معمولی حالات سے گزر رہے ہیں، جنہوں نے ایک بار پھر ریاستی اداروں کی مضبوطی کی اہمیت واضح کی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امیر قطر نے کہا کہ خطے اور دنیا کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں عدم استحکام کو دیگر علاقوں میں ہونے والی پیش رفت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

انہوں نے قطر کی علاقائی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اپنے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، تاہم وہ خود کو جنگ میں گھسیٹے جانے سے بچانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق، مذاکرات اور پُرامن حل پر یقین رکھنے کا مطلب ملکی دفاع میں غفلت برتنا نہیں ہے۔

شیخ تمیم نے مزید کہا کہ قطر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کے قیام اور آبی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں حصہ لیا ہے۔ انہوں نے علاقائی تنازعات کے پُرامن حل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔

علاقائی صورتحال کے معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے امیر قطر نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کی معاشی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے بنیادی خدمات میں کمی نہیں کی جائے گی اور نہ ہی ترقیاتی ترجیحات تبدیل کی جائیں گی۔ شمالی گیس فیلڈ سے متعلق منصوبے بھی طے شدہ پروگرام کے مطابق جاری رہیں گے، جن کا مقصد مائع قدرتی گیس کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قطر عالمی مائع قدرتی گیس کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرتا ہے، اس لیے ملک کو متاثر کرنے والی کسی بھی بڑی تبدیلی یا خلل کے اثرات تیزی سے عالمی منڈیوں تک پہنچتے ہیں۔ ان کے مطابق، آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات نے قطر کی گیس برآمدات کے ایک اہم حصے کو متاثر کیا ہے۔

امیر قطر نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ حالیہ پیش رفت نے علاقائی تعاون کی اہمیت مزید نمایاں کردی ہے۔

خطاب کے آخری حصے میں شیخ تمیم نے غزہ میں ہونے والے واقعات کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کو جواب دہ بنانے کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر صہیونی آبادکاروں کے حملوں اور مسجد اقصیٰ کی بار بار بے حرمتی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha